نئی دہلی،23/اکتوبر(ایس اونیوز/ آئی این ایس انڈیا) فرضی اکاؤنٹ پر لگام لگانے کے لئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو آدھار، پین یا ووٹر شناختی کارڈ سے منسلک کرنے کے لئے قدم اٹھانے کی مرکزی حکومت کو ہدایات دینے کے سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ میں بدھ کو ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی۔بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے نے یہ عرضی دائر کی ہے۔اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا استعمال انتخابات کے دوران’فرضی خبریں اور پیڈ نیوز‘ کو پھیلانے کے لئے ہوتا ہے۔انہوں نے مرکز کو یہ حکم دینے کی درخواست کی کہ وہ خاص طور پر ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کی صورت میں فرضی خبروں اور پیڈ نیوز پھیلانے کو روکنے کے لئے فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ڈی ایکٹیویٹ کرے۔اپادھیائے نے عرضی میں دعوی کیا ہے کہ پیسے دے کر چھپوائی جانے والی خبروں اور جعلی خبروں کو شائع کرنے یا انہیں شائع کرنے کو فروغ دینے سے روکنے کے لئے تعزیرات ہند، عوامی نمائندے قانون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون میں ترمیم کئے جانے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ نے 14 اکتوبر کو اپادھیائے کی عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد اپادھیائے نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔عدالت عظمی نے درخواست گزار کو ہائی کورٹ جانے کی آزادی دی۔سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کو آدھار کے ساتھ منسلک کو لے کر مختلف ہائی کورٹ میں زیر التوادرخواستیں منگل کو اپنے یہاں منتقل کر لی تھیں۔اپادھیائے نے عرضی میں درخواست کی ہے کہ عدالت فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کو آدھار سے منسلک کرنے کے لئے مرکز کو ہدایات دے اور جعلی اور پیڈ نیوز روکنے پانے کے لیے الیکشن کمیشن اور پریس کونسل آف انڈیا کو مناسب قدم اٹھانے کی ہدایت دے۔